BREAKING NEWS

‫ووکیشنل تعلیم کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے یانتائی کالج کی نئے طریقوں کی تلاش

یانتائی ووکیشنل کالج

یانتائی، چین، 25 ستمبر 2026 /ژنہوا-ایشیا نیٹ/- اگست میں یانتائی ووکیشنل کالج نے اپنے دو فیکلٹی ممبران، ژاؤ یوہو اور وانگ گوانگ یی کو ملائیشیا کے (کے ڈبلیو ٹی )ٹیکنیکل کالج اور یونیورسٹی ملائیشیا پرلس ( UniMAP ) بھیجا، جہاں انہوں نے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں ( NEV ) کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے اساتذہ کے لیے 15 روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا۔

قومی “ڈبل ہائی لیول” اقدام کے تحت NEV پروگرام کی تیاری میں کالج کی کامیابیوں اور بی وائی ڈی انڈسٹریل کالج کے ساتھ صنعت و تعلیمی اداروں کے اشتراک سے حاصل ہونے والے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے، اس پروگرام کے ذریعے مقامی جامعات اور ووکیشنل تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی تین بنیادی ٹیکنالوجیز بیٹری، الیکٹرک موٹر اور الیکٹرانک کنٹرول سسٹمز کے بارے میں منظم اور جامع ٹریننگ فراہم کی گئی۔

پروگرام میں چین کے NEV نصابی ڈھانچے اورعملی تربیتی ماڈل کو بھی متعارف کرایا گیا۔ یہ اقدام ووکیشنل تعلیم کے بیرونِ ملک فروغ اور بین الاقوامی صنعتی تعاون کی معاونت میں کالج کی کوششوں کے دوران  عملی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔

تربیت میں شریک انسٹرکٹر محمد حیدزر نے پروگرام کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس سے قبل مختصر مدتی تربیتی پروگراموں کے لیے چین جا چکے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیں ایسے ماہرین کی زیر نگرانی سیکھنے کا موقع ملا جنہیں صنعت میں عملی تجربے کے ساتھ ساتھ ووکیشنل تعلیم میں بھی مہارت حاصل ہے۔ تربیتی پروگرام میں “چین-ملائیشیا ڈوئل ٹریک”  ماڈل اپنایا گیا، جس کے تحت نظریاتی تدریس، نصاب کے عملی مظاہرے، گاڑیوں پر عملی تربیت اور موضوعاتی سیمینارز کو یکجا کیا گیا۔ اس طریقۂ کار سے ملائیشیا کے اساتذہ کو نہ صرف NEV کی بنیادی ٹیکنالوجیز کو منظم انداز میں سمجھنے کا موقع ملا بلکہ یانتائی ووکیشنل کالج کے NEV پروگراموں سے متعلق پیشہ ورانہ معیارات، نصابی معیارات اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے معیار کو عملی تدریسی اور تربیتی سرگرمیوں میں ڈھالنے میں بھی مدد ملی۔

اس طرح پروگرام کے ذریعے چین کی NEV ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے تجربات کو ملائیشیا میں متعارف کرایا گیا اور بین الاقوامی  اشتراک عمل  کے ایک ایسے ماڈل کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی جس میں تکنیکی تربیت بنیادی محور، صنعت و تعلیمی اداروں کا اشتراک معاون قوت، اور مہارت و صلاحیت کی ترقی بنیاد ہو۔

اس اقدام نے چین اور ملائیشیا کے درمیان ووکیشنل تعلیم اور صنعت کے شعبوں میں عملی تعاون کی ایک نئی راہ ہموار کی  بلکہ  اس  امر کی ایک عملی مثال بھی فراہم کی  کہ چینی پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے کس طرح اپنی مہارت، تجربات اور تربیتی ماڈلز کو بین الاقوامی سطح پر دیگر ممالک کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔